By: امن وسیم
برسی جدائی کی
مناتا ھوں میں گلشن میں
کہ جس میں میں نے تیرے ساتھ
کئی شامیں گزاری تھیں
کہ جس میں ساتھ رھنے کی
اکٹھے جینے مرنے کی
بہت سی قسمیں کھائیں تھیں
معاہدے ھم نے لکھے تھے
شجر کے خشک تنوں پر
گواہی جن کی دینے کو
سب کلیاں کھل سی اٹھی تھیں
مگر تم بچھڑے کچھ ایسے
کہ گلشن ویراں ھے تب سے
بہاریں لے گئے جب سے
میں ڈھونڈھوں تو کہاں ڈھونڈھوں
میں تم سے کس طرح پوچھوں
کہ کیسے بھولے تم یہ سب
کسے منصف کروں میں اب
شواہد مٹ چکے اب تو
گواہ بھی مر گئے کب سے
اور گلشن ویراں ھے تب سے
مگر میں پھر بھی جاتا ھوں
اسی گلشن میں، بس
ھر سال میں اک بار
وہاں برسی مناتا ھوں
اور وہ سیٹ جس پہ بیٹھتے تھے
دونوں دیوانے
جہاں پہ دفن ہیں میری وفا کے
سارے افسانے
میں اس پہ پھول چڑھاتا ھوں
اور یوں برسی مناتا ھوں
یعنی برسی جدائی کی
تمہاری بے وفائی کی
Install Bazm-e-Urdu now to search through over 50000+ Urdu Poems and share as text or customized images. More than 1000+ images to choose from. So what are you waiting for?