By: Mohsin Naqvi
مرتی ہوئی زمین کو بچانا پڑا مجھے
بادل کی طرح دشت میں آنا پڑا مجھے
وہ کر نہیں رہا تھا میری بات کا یقین
پھر یوں ہوا کے مر کے دکھانا پڑا مجھے
بھولے سے میری سمت کوئ دیکھتا نہ تھا
چہرے پر اک ذخم لگانا پڑا مجھے
اس اجنبی سے ہاتھ ملانے کے واسطے
محفل میں سب سے ہاتھ ملانا پڑا مجھے
اس بےوفا کی یاد دلاتا تھا ہر پل
کل آئینے پہ ہاتھ اٹھانا پڑا مجھے
ایسے بچھڑ کر اس نے تو مر جانا تھا محسن
اس کی نظر میں خوکو گرانا پڑا مجھے
Install Bazm-e-Urdu now to search through over 50000+ Urdu Poems and share as text or customized images. More than 1000+ images to choose from. So what are you waiting for?