By: muhammad nawaz
آئینہ ہاتھ میں دن رات لئے پھرتے ہیں
روبرو گردش حالات لئے پھرتے ہیں
دیکھنا حسن کے ان فتنہ گروں سے بچ کے
جیت کے بھیس میں جو مات لئے پھرتے ہیں
زندگی نام ہے فرہاد کی تیشہ گری کا
آپ تو مہندی لگے ہاتھ لئے پھرتے ہیں
یوں مجھے دیکھتے جاتے ہیں تیرے شہر کے لوگ
جیسے ماتھے پہ مکافات لئے پھرتے ہیں
جان من دیکھنا فرصت کے چار لمحوں میں
ہم بھی جزبوں کی کرامات لئے پھرتے ہیں
ان کے دالان میں کھلتے ہیں شگوفے ہر دم
ہم وہاں یونہی غم ذات لئے پھرتے ہیں
دیکھ کر مجھ کو کہا دشت کی ویرانی نے
آپ پھر زندگی کی بات لئے پھرتے ہیں ؟
Install Bazm-e-Urdu now to search through over 50000+ Urdu Poems and share as text or customized images. More than 1000+ images to choose from. So what are you waiting for?