By: Ghulam Mujtaba Haashmi Yaasir Al Barkaati
تجھ سا کب دوسرا نہیں موجود
دل میں اب حوصلہ نہیں موجود
بات ایسی ہو کیوں مرے لب پر
جس میں تیری رضا نہیں موجود
تونے یکسر بھلادیا مجھ کو
وہ جو احساس تھا، نہیں موجود
ظلم بے فکر ہو کے ڈھاتے ہو
دل میں خوفِ خدا نہیں موجود
ناؤ لہروں کو سونپ دوں کیونکر
کیا کوئی ناخدا نہیں موجود
بھول بیٹھا ہوں راستہ گھر کا
تجھ سا اب رہنما نہیں موجود
ایک تجھ کو ہی رب سے مانگا ہے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں موجود
دل میں یاسر کے دیکھ لے آکر
کچھ بھی تیرے سوا نہیں موجود
(معروف شاعرہ محترمہ رضوانہ سعید روز صاحبہ کے ردیف “نہیں موجود“ پر طرح آزمائی کی کوشش کی ہے)
Install Bazm-e-Urdu now to search through over 50000+ Urdu Poems and share as text or customized images. More than 1000+ images to choose from. So what are you waiting for?