By: Chaudhry Tahir Ubaid Taj
میرے اعصاب میں اک جو فریاد تھی، وہ تری یاد تھی
اور وہم و گماں میں جو آباد تھی ، وہ تری یاد تھی
مجھ پہ طاری رہا اس کا احساس بادِ صبا کی طرح
ایسا لگتا ہے جیسے چمن زاد تھی ، وہ تری یاد تھی
اب کے یوں بھی ہوا کہ سفر نے مجھے راستہ نہ دیا
فاصلوں سے، حدوں سے جو آزاد تھی ، وہ تری یاد تھی
میرے احباب نے بھی کبھی نہ کیا وہ مرا ذکر تھا
تیرے عشاق کے لب پہ فریاد تھی ، وہ تری یاد تھی
مرحلہ کوئی تو آئے تجدید کا پھر تیری دید کا
شام محبوس تھی، سوچ برباد تھی ، وہ تری یاد تھی
کچھ بھی کرنے کو گر ٹھان لیں تو ہمیں کچھ بھی پرواہ نہیں
میرے فکر و عمل کو جو صیاد تھی ، وہ تری یاد تھی
اپنے بارے کبھی سوچتے تاج ہم بھی پہ مجبور تھے
جس نے مجنوں کیا ایک افتاد تھی ، وہ تری یاد تھی
Install Bazm-e-Urdu now to search through over 50000+ Urdu Poems and share as text or customized images. More than 1000+ images to choose from. So what are you waiting for?