By: kanwal naveed
کاش کہ میں بھی مرد ہوتی
معاشرے کا ایک فرد ہوتی
جینے کا مجھے بھی حق ہوتا
چیرہ نہ یوں پھر فق ہوتا
کاش کہ جیون مجھے بھی ملتا
چاہت کا کوئی گل تو کھلتا
کاس کہ پوچھتے مجھ سے چاہت
کسی پل تو ملتی پھر راحت
ہر فیصلہ نہ تھونپا جاتا مجھ پر
عزت کونہ سونپا جاتا مجھ پر
کاش کہ نہ میں مثل چیز ہوتی
کاش کسی کی نہ کنیز ہوتی
نیچلا درجہ اونچے مناصب
سچ کا جھوٹ کے ساتھ تناسب
میرے خوابوں کی نہیں تعبیر ملتی
اگرچہ دنیا ہے زلفوں کی اسیر ملتی
نہیں ملتا جو میں چاہتی ہوں جہاں میں
میرے مولا اس دنیا میں ہوں کہاں میں
کاش کہ دنیا نہ بے درد ہوتی
کاش کہ میں بھی مرد ہوتی
Install Bazm-e-Urdu now to search through over 50000+ Urdu Poems and share as text or customized images. More than 1000+ images to choose from. So what are you waiting for?