By: وشمہ خان وشمہ
برسی ہے برسات جو دل کے گاؤں میں
بجنے لگے ہیں پھر سے گھنگرو پاؤں میں
ایک سمندر آنکھ سے کیا بہہ نکلا ہے
طغیانی سی دیکھی ہے دریاؤں میں
تبدیلی کی دوڑ میں چھوڑا شہرِ جنوں
منزل ہو گی خاک یہاں صحراؤں میں
جیون کے ہر کھیل میں دونوں ہارے ہیں
پھر سے کھیلیں زیست کے پتے چھاؤں میں
وقت کی ہر رفتار کو قابو رکھتے ہیں
خوبی ہے یہ دیس کے ان داناؤں میں
بچ نکلی ہوں عشق میں غم کے شعلوں سے
لیکن درد کے سانپ ہیں وشمہ پاؤں میں
Install Bazm-e-Urdu now to search through over 50000+ Urdu Poems and share as text or customized images. More than 1000+ images to choose from. So what are you waiting for?